حالت حیض میں طواف زیارت
سوال
زینب اپنے زوج کے ہمراہ ۱۹۷۳ء میں پاکستان سے حج کو گئی تھی، زینب جب عرفات سے منی شریف کو آگئی، اور جمرۃ العظمیٰ کی رمی کی تو فوراً اس کو حیض آگیا، (یہ حیض دس دن تک رہتا ہے) زینب اور اس کے زوج کی تاریخ روانگی ۱۳ رذی الحجہ ہے، اب زینب کا طواف زیارت باقی ہے، جب زینب کو مکہ مکرمہ میں اتنا وقت نہیں ملا کہ پاک ہو جائے، اور غسل کر کے طواف زیارت ادا کرے، تو زینب اپنی رائے اور اجتہاد کے متعلق غسل کر کے حرم شریف کو چلی گئی، اور طواف زیارت کر کے دورکعت نماز پڑھ کر دوسرا طواف شروع کیا کہ یہ طواف الوداع کرتی ہوں، دوسرے طواف…
جواب
اس صورت میں زینب پر ایک بدنہ بحالت حیض طواف زیارت کرنے کی وجہ سے لازم ہوا ہے اور ایک دم (بکری یا بھیڑ) طواف وداع اس حالت میں کرنے کی وجہ سے ہوا، احرام کے حلال ہونے کیلئے قدر متعین بالوں کا کاٹنا ضروری ہے، اگر اس میں ممنوعات احرام کا ارتکاب یہ سمجھتے ہوئے کہ احرام ختم ہو گیا کیا تو ایک دم اس کی وجہ سے لازم ہوگا، پھر وہ اپنے شوہر کے لئے حلال ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔