طواف وداع نہ کرنے سے دم
سوال
(۱) زید بغیر طواف وداع کے چلا آیا دم واجب ہوا تو جدہ میں قربانی کرے، یا وطن پہنچ کر؟ (۲) زاہد طواف وداع کیلئے تیار تھا، مگر تار آیا کہ جہاز تیار ہے، فوراً آؤ حجاج لاری پر سوار ہو گئے، زاہد بھی سوار ہو گیا، تو اس عذر سے دم ساقط ہوا یا نہیں؟
جواب
(۲) ساقط نہیں ہوا۔ تنبيه: طواف وداع کیلئے مخصوص نیت شرط نہیں بلکہ منی سے فارغ ہو کر جب مکہ مکرمہ میں آئے اور بہ نیت تطوع طواف کرلے تو وہ بھی طواف وداع کے حکم میں ہو جائیگا، فاذا اراد الظعن عنها اى عن مكة طاف للصدر ويسمى طواف الوداع وهو واجب، ولكن لا تشترط له نية معينة حتى لوطاف بعد ماحل النفر ونوى التطوع اجزأه عن الصدر اھ مجمع الانهر
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔