الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رضاعی بیٹی کے شوہر کے ساتھ سفر حج

سوال

اگر ایک عورت اپنا دودھ پلائی ہوئی عورت کے شوہر کے ساتھ جب کہ دوسرا آدمی سفر کرنے کو تیار نہیں ہے، سفر حج میں جائے در آنحالیکہ وہ دودھ پلائی ہوئی عورت بھی حج کرنے اس قافلہ میں جارہی ہو تو کوئی قباحت تو نہیں ہے؟

جواب

جب تک شوہر یا محرم ساتھ نہ ہو سفر حج کرنا مکروہ ہے، بچے کو دودھ پلانا سفر سے مانع نہیں، ایک عورت نے اگر کسی بچی کو دودھ پلایا ہو تو وہ رضاعی بیٹی ہوگئی، اور اس کا شوہر داماد ہو گیا، اس سے نکاح درست نہیں ایسے داماد کے ساتھ سفر کرنا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو