کسی عورت کا دوسری عورت کے ساتھ حج کرنا
سوال
میری اہلیہ محترمہ ڈاکٹر آمنہ خاتون صاحبہ جن کی عمر پچاس برس کی ہے، اور ان پر حج فرض ہو چکا ہے، فریضہ حج ادا کرنے کی تڑپ رکھتی ہے لیکن میں ایک خاص عذر کی وجہ سے مجبور ومعذور ہوں، ان کے ساتھ سفر نہیں کر سکتا، اور نہ کوئی محرم موجود ہے، جو ان کے ساتھ سفر حج کر سکے، حسن اتفاق سے نواب بسالت جاہ حیدر آبادی مدظلہ العالی اور ان کی اہلیہ محترمہ اور ان کی والدہ محترمہ حج کو جارہے ہیں، ان بزرگوں خواتین کے ساتھ میری اہلیہ محترمہ ڈاکٹر آمنہ خاتون صاحبہ سفر حج کو جانا چاہتی ہیں، میں اس پر راضی ہوں، آیا بصورت ہذا از روئے شرع…
جواب
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت مطلق سفر یا سفر حج اس وقت کر سکتی ہے جبکہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم موجود ہو، امام ابو حنیفہ اور امام احمد کا یہی مذہب ہے، امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر معتبر عورتیں یا ایک عورت ساتھ ہو اور امن ہو تو عورت بلا محرم بھی حج کر سکتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔