نامحرم کو سفر حج میں ساتھ لیجانا
سوال
غیر محرم عورت کو ساتھ لیکر حج میں جانے میں کوئی گنجائش نکلتی ہے یا نہیں؟ بعض عورتیں بیوہ ہیں اور کوئی محرم بھی ان کے نہیں ہے، اگر نا جائز ہے تو پھر ان کے حج ادا کرنے کی کیا سبیل ہے، نیز بعض علماء دین کے واقعات اس قسم کے ہیں کہ انہوں نے یا تو کسی غیر محرم کیساتھ کسی غیر محرم عورت کو حج کے لئے بھیجا ہے مثلاً یہاں بھیسانی کا ایک واقعہ ہے، حضرت تھانوی نے یہاں سے ایک عورت کو کانپور کے کچھ حاجیوں کے ساتھ بھیجا اور علمائے دین کے وفد میں کچھ لوگوں کے ساتھ غیر محرم عورت تھی مگر انہوں نے کسی قسم کی نکیر نہیں کی؟
جواب
عورت کو بغیر محرم یا بغیر شوہر کے سفر کرنا منع ہے، خواہ مشتہاۃ ہو! خواہ غیر مشتباہ ہو، بیوہ کیساتھ کوئی محرم نہ ہو تو وہ نکاح کرے۔ ایک واقعہ میرے علم میں بھی ہے: حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے ارادہ حج فرمایا ایک عالم زیارت وملاقات کے لئے آئے اور اپنی عزیزہ کو مکان پر پہنچا گئے، جس کی حضرت سہارنپوری کو خبر نہیں ہوئی، جب جملہ اہل وعیال گاڑی میں سوار ہوئے اور ٹکٹوں کا حساب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔