بغیر شوہر کی اجازت کے بھائی کے ساتھ حج کرنا
سوال
زید کی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف امسال حج کو جانے پر بضد ہے، اور اس کے حقیقی برادر بھی حج کو جارہے ہیں، زید اپنے خانگی حالات کی وجہ سے اس سال اجازت دینے سے روکتا ہے، یعنی زید کی بیوی اپنے شوہر کے حقوق ادا نہیں کرتی ہے، زید کی بہن نے بھی اپنے حج کی درخواست دے رکھی ہے، اگر خدا کو منظور ہوا تو زید کا مکان تنہا رہ جائے گا، اور اس کے مکان پر سوائے ان دونوں کے اور کوئی قابل اطمینان آدمی نہیں ہے، تو زید کی بیوی اپنے برادر کے ساتھ زید کی بلا اجازت حج کو جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب
جب اس عورت کی ملک میں اتنا روپیہ ہے کہ اس پر حج فرض ہو جائے، اور ساتھ جانے والا محرم بھی موجود ہے، تو اس کو ضرور اجازت دیدی جائے، شوہر کو حق نہیں کہ وہ اس حالت میں حج سے اس کو رو کے، وہ اگر ناپاکی سے پاک نہیں ہوتی، خدا اور شوہر کے حقوق کو ادا نہیں کرتی ہے، تو وہ سخت گنہ گار ہے، اس کو توبہ لازم ہے، اور اس کو فہمائش کی جائے، اور وعید سنائی جائے، اور بتایا جائے کہ خدا کے گھر جانے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔