ایک زمین کے متعلق نزاع
سوال
زید کے مکان کے متصل کچھ زمین مثلاً بیس مربع فٹ کسی ایسے مسلمان کی بیکار کھنڈر کھنڈیرے کی صورت میں ہے اور وہ کسٹوڈین کے قبضہ میں جا چکی ہے اس زمین کا مالک کوئی مسلمان تھا وہ پاکستان میں کہیں رہتا ہے اور اس کے یہاں موجود اعزاء اقرباء یا وارث کون ہیں اس کا پتہ لگانا بھی مشکل ہے اور کسی کو مل نہیں سکتی کیونکہ کسٹوڈین نے ایک سندھی کو زمین دیدی ہے لیکن زید کے ذاتی مکان کے نقشہ میں اتفاقا یا جس طرح بھی ایسی پیمائش لکھی ہے کہ وہ مذکورہ بالا زمین اس کے ذاتی مکان کے نقشہ میں پوری طرح ضم ہو جاتی ہے اور مکان سے ملی ہوئی ہے اس…
جواب
کسٹوڈین کے قبضہ کرنے اور سندھی کو معاوضہ میں دینے کی وجہ سے وہ زمین اس جانے والے کی ملک سے خارج ہوگئی اور سندھی کی ملک ہو گئی اب زید کا غلط بیان کر کے اس کو اپنی زمین ظاہر کرنا اور بذریعہ مقدمہ غلط ثبوت پیش کر کے اپنے مکان میں شامل کرنا جائز نہیں حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بعض آدمی با تیں خوب بنا کر اپنا دعویٰ ثابت کر دیتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔