زانی کی مدد بھی گنا ہے لہذا ایسے شخص سے ترک تعلق
سوال
ایک شخص بر سر عام زنا کرتا ہے، جبکہ اس کے پاس دوعورتیں شادی شدہ موجود ہیں، پھر بھی دوسری عورتوں کو بہلا کر پھسلا کر گھر لاتا ہے، اس کے اس کام میں اس کے والدین وغیرہ بھی شامل ہیں، تو کیا اس زنا کا گناہ اس کو تنہا ہوگا؟ یا جو اس کام میں اس کی مدد کر رہے ہیں ان کو بھی ہوگا؟ نیز ایسے شخص سے تعلق رکھنا، کھانا پینا درست ہے یا نہیں؟
جواب
زنا کرنا حرام کاری ہے، اس میں اس کی جس قدر بھی کوئی مدد کرے گا وہ بھی گناہ میں شریک ہوگا، تمام خاندان والوں کو ضروری ہے کہ اس کی روک تھام کریں، اگر ترک تعلق سے اس کی اصلاح کی توقع ہو تو اس کے یہاں کھانا پینا وغیرہ چھوڑ دیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔