الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کبائر میں مبتلا رشتہ داروں کے ساتھ تعلق

سوال

اعزہ اقرباء میں جو لوگ علی الاعلان کبائر میں مبتلا ہوں تو ان لوگوں سے ترک تعلق ٹھیک ہے یا نہیں اور اگر وہ اعزہ غیر محرم ہوں تو کیا حکم ہے کیونکہ وہ تو غیر کے حکم میں ہیں۔ اور اگر وہی مبتلائے کبائر اہل دین کا مذاق اڑاتے ہوں یا بیوقوف وذلیل سمجھتے ہوں یا وہ خود اہل دین سے اجتناب رکھتے ہوں محض دیندار ہونے کی وجہ سے تو اہل دین کو کیا کرنا چاہئے جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

اگر حسن اخلاق و مروت سے متاثر ہو کر کبائر کو ترک کر دیں یا ان کو فہمائش کا موقع ملے جس سے نفع کی امید ہو تو ان سے تعلق باقی رکھ کر اصلاح کی کوشش کی جائے اگر ترک تعلق سے اصلاح کی توقع ہو یا تعلق کی وجہ سے خود مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو تعلق ترک کر دیا جائے، دعاء بہر حال کرتے رہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو