داماد اور ساس کو برادری نے خارج کر دیا غلط تعلق کیوجہ سے
سوال
عرصہ دراز ہوازید کی شادی نابالغہ لڑکی سے ہوئی تھی، زید کی ساس بیوہ تھی، اس کے خاندان میں اس کا پرسانِ حال کوئی نہیں تھا، اس وجہ سے بیوہ بھی زید کی رفاقت میں تھی، ساتھ رہتے رہتے زید سے ساس کے ساتھ ناجائز تعلق ہو گیا، پھر معلوم ہوا کہ زید کی ساس حمل سے ہے، یہ چیز بھی ظاہر ہوگئی، اس بناء پر زید کے برادریوں نے اور گاؤں و محلہ کے غیر برادریوں نے زید کو چھوڑ دیا، اور زید نے اس دوران اپنی بیوی کو طلاق بھی دیدی، تقریباً بیس سال ہوئے، زید کے نطفہ سے ساس کے بطن سے دولڑکی اور ایک لڑکا بھی موجود ہے، ہر حال میں زید نے برادری…
جواب
ان دونوں کا ساتھ مل جل کر رہنا ہرگز جائز نہیں محض زبانی یہ کہدینا کہ میں اس کو ماں کی طرح سمجھوں گا، اور یہ مجھ کو بیٹے کی طرح سمجھے گی، کافی نہیں، نفس و شیطان دونوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، وہ پھر ان کو مکاری پر آمادہ اور مجبور کر دیں گے، جیسا کہ اب تک کرتے رہے، ماں کہنے کے ساتھ وہ شرعی ماں نہیں ہوگی، جس سے انسان کو طبعی حیا ہوتی ہے، بلکہ وہ ساس ہی ہے اور اس کے ساتھ تعلق نا جائز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔