الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اندیشہ تہمت سے ترک تعلق

سوال

دنیا کے اندر یہ قاعدہ رائج ہے کہ انسان اپنے کسب مقاصد کے لئے غیر ممالک کا سفر کرتا ہے، مثلاً تحصیل علوم و دیگر اکتسابات دنیویہ ہر انسان کی عادت بھی یوں ہوتی ہے، کہ ایک آدمی کی طبیعت دوسرے شخص کی طبیعت سے نہیں ملتی بلکہ اپنی طبیعت کے موافق آدمی لے کر سفر کے اندر اپنی زندگی بسر کیا کرتے ہیں، چنانچہ رات دن کا مشاہدہ بھی یہی ہے۔

جواب

مسلم کا مسلم سے ترک موالات کرنا اور دل میں کینہ رکھ کر ترک سلام و کلام کرنا نا جائز ہے۔ ایک دوسرے کی اعانت حسب ضرورت و حسب حیثیت ضروری ہے، لیکن مظنہ تہمت سے بچنا بھی لازم ہے، جس کے ساتھ جس قدر اختلاط سے نفس الامر میں فتنہ اور معصیت کا اندیشہ ہو اسی قدر اس سے اجتناب واحتیاط واجب ہے، خاص کر جب اپنے اکابر منع فرماویں، اور ایسی صورت میں چونکہ دل میں حسد اور عداوت نہیں بلکہ اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو