الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بائیکاٹ کا اثر میت پر

سوال

مسمی زید کے باپ کا چند معمولی باتوں پر بائیکاٹ کر دیا تھا جب باپ کا انتقال ہو گیا تو جماعت نے فیصلہ سنا دیا کہ جو شخص جنازہ میں شریک ہوگا اسے مناسب سزادی جائے گی مردہ نہلانے کا تختہ بھی ہے اور چار پائی سب منع کر دی گئی حتی کہ امام مسجد کو نماز پڑھانے سے روکا گیا درزی کو کفن سینے سے منع کرایا گیا مسلمان دوکاندار کو کفن بیچنے سے منع کر دیا گیا مجبوراً گھر کے کواڑ پر تختہ بنا کر نہلایا اور دوسرے گاؤں کے لوگوں نے جنازہ پڑھا اور اٹھایا سوال یہ ہے کہ اس جماعت کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

جماعت کی یہ کارروائی سخت ترین ظلم اور نا انصافی ہے میت ہو جانے پر پرائے دشمن بھی آکر ہمدردی کرتے ہیں اور اس وقت بغض و عداوت کا اثر نہیں لیتے۔ امام درزی، پارچہ فروش وغیرہ کسی کے ذمہ اس ظالمانہ جماعت کے حکم کا ماننا لازم نہیں بلکہ جائز بھی نہیں۔ جماعت اپنی خیر چاہتی ہے تو اپنے اس فیصلہ پر نادم ہو کر توبہ کرے اور معافی مانگے۔ ورنہ خدائے قہار کی پکڑ کی منتظر رہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو