الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وعدہ خلافی منافق کی نشانی کب ہے؟

سوال

ایک صاحب عالم کہلاتے ہیں، صوفی اور خلیفہ کا لقب بھی، نماز، روزہ کے احکام سے تھوڑا بہت واقف ہیں، پیری مریدی بھی کرتے ہیں، اکثر قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے ہیں واما الذين آمنوا وعملوا الصالحات فيوفيهم اجورهم ان مولانا صاحب نے ایک مکان کرایہ پر لیا اور تحریری وعدہ کیا کہ جب مالک مکان کو ضرورت ہوگی مکان خالی کردونگا، مالک مکان چار سال سے خوشامد کر رہا ہے، مگر مولا نا مکان خالی نہیں کرتے، اور وعدہ سے منہ موڑ لیا ہے، مالک مکان سے چار سال سے بول چال بند ہے، کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا، ان کو کسی فیصلہ میں شامل کرنا، ان سے…

جواب

اگر وعدہ کرتے وقت ہی یہ نیت ہو کہ وعدہ پورا نہیں کرنا ہے، بلکہ دھوکا دینے کے لئے جھوٹا وعدہ کیا ہے، تو یہ نیت گناہ اور منافق کی علامت ہے، ایسی حالت میں ایسے آدمی سے بیعت ہونا یا اس کو اپنے لئے مصلح تجویز کرنا غلط ہے، ذاتی نفسانی رنج کی وجہ سے بول چال بند کرنا تین دن سے زائد درست نہیں، اس پر وعید آئی ہے، اگر وعدہ تو پورا کرنے کی نیت سے کیا ہے، مگر کسی عارض و مجبوری کی وجہ سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو