الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رنجش کی وجہ سے ترک کلام کی حد

سوال

یہ جو مشہور ہے کہ اگر مسلمان آپس میں تین روز تک کلام نہ کریں اور اسی میں مر جاوے تو وہ دوزخی ہے، یہ مسئلہ خاوند و بیوی کے ساتھ خاص ہے، یا عام اور نہ بولنا اپنی ذاتی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے؟

جواب

اگر کسی شخص سے کلام کو ترک کر دیا جائے اس وجہ سے کہ اس کی دینی حالت خراب ہے یا اس سے اس کی اصلاح ہو جائے گی، یا اس سے ضرر کا اندیشہ ہے تو یہ شرعاً مذموم نہیں، افضل الاعمال الحب في الله والبغض في الله (جمع الفوائد ج ۲ ص ۴۸)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو