الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بے نمازی کا بائیکاٹ کرنا

سوال

ہمارے یہاں کی مسجد کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ ہر مسلمان بھائی پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے، ہمارے گاؤں میں تین مسجدیں ہیں، وہ کسی بھی مسجد میں نمازیں ادا کریں، جو بھی وقت ملے، اگر کسی بھائی کو پانچ وقت کی نماز میں نہیں ملتی ہیں تو جو بھی وقت ملے وہ نماز میں شریک ہوں، ایک بھی وقت نہیں ملتا ہے تو آٹھ روز جمعہ کی نماز میں ضرور شریک ہوں، بغیر عذر شرعی کے جمعہ میں بھی نہیں آتا، تو اس شخص کے گھر غمی یا خوشی کے کام میں جماعت شریک نہیں ہوگی، یہ اعلان صرف صوم وصلوٰۃ کے پابند ہونے کے لئے کیا گیا ہے، ویسے ایسے کام جیسے شادی و…

جواب

اصل مقصود اصلاح حال اور فرائض خداوندی کی پابندی ہے، ترک تعلق اور خوشی میں عدم شرکت بھی اس کا ایک طریقہ ہے، ”فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين“ (الآیة) اگر یہ مفید ہو تو اس کو اختیار کر لیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو