الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو شخص ساتھ نہ دے اس سے ترک تعلق

سوال

جو مسلمان کسی مسلمان کی امداد نہ کرے بلکہ تماشائی بن کر دیکھتا رہے،اس کے بارے میں کیا فتوی ہے؟ ہم لوگوں نے عہد کیا تھا کہ جو مسلمان ہماری امداد نہ کرے اس کو برادری میں شریک نہیں کریں گے، کیونکہ انہوں نے ہمارے اوپر کئے گئے غلط اور جھوٹے مقدمہ میں ہماری امداد نہیں کی، اس وجہ سے ہم نے قطع تعلق کا فیصلہ کر لیا، اور اس دور میں ان لوگوں کی لڑکی فوت ہو گئی، جس کے جنازہ میں ہم شامل نہیں ہوئے، کیونکہ ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ ان کو شریک برادری نہیں کریں گے، جو ہمارا ساتھ نہیں دیں گے، تو شریعت اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟

جواب

ایسے معاملہ میں جو مفاد عامہ کے لئے ہو سب کو ہی ساتھ دینا چاہئے، ان آدمیوں کا الگ رہنا اور ساتھ نہ دینا بہت بری بات ہے، اگر کسی ناجائز بات میں شریک نہ ہوں الگ رہیں تو ٹھیک ہے، اگر وہ اپنی غلطی کا اقرار کر کے نادم ہوں تو ان کو برادری میں شامل کرلیا جائے کہ جولڑ کی فوت ہوگئی، اس کے جنازہ میں شریک نہ ہونا بھی غلطی ہے، آئندہ ایسا نہ کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو