الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مندر اور پوجا میں چندہ دینا

سوال

ہمارے یہاں کچھ لوگ دسہرہ اور درگا پوجا کے میلہ کے سلسلے میں چندہ دیتے ہیں، اور کچھ لوگ نہیں دیتے ہیں، دینے والوں کو منع کرنے پر یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ ہندوؤں کے ساتھ میل جول کا یہ ایک طریقہ ہے، گورنمنٹ ہم سے ٹیکس لیکر مندر و مسجد دونوں میں صرف کرتی ہے، اورنگ زیب عالمگیر نے بہت سے مندر تعمیر کرائے، اور بہت سے مندر پرستوں کو وظیفہ دیتے تھے، مندرجہ بالا تاویل کے پیش نظر از روئے شریعت فتوی جاری فرمائیں، تا کہ ہم لوگ مطمئن ہوسکیں، اور ہم اسلامی مسائل کے پیش نظر لین دین قائم رکھیں؟

جواب

ضرر سے بچنے کے لئے ان لوگوں کو تملیکاً پیسے دیئے جائیں تو اس کی گنجائش ہے، پھر وہ جہاں چاہیں خرچ کریں اس صورت میں عالمگیر کے یا کسی اور کے فعل سے استدلال کی ضرورت نہیں، اور ان کی پوری کیفیت بھی سامنے نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو