الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفار کے میلے میں چندہ دینا

سوال

(۱) ملک برہما میں یہ دستور ہے کہ ہر ایک سال ہر محلہ میں ایک ایک مہینہ میلہ لگتا ہے، جس میں ناچ رنگ سرود وغیرہ کھیل تماشے بھی ہوتے ہیں، اس میلہ کو برہمی زبان میں پھیا پھیلڑی یعنی بھوت میلہ کہتے ہیں، جس میں روپیہ پیشہ چندہ دیتے ہیں، اس میں مسلمانوں کو چندہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) چندہ دینے والے لوگ کہتے ہیں کہ جیسا زمانہ ہو ویسا چلنا چاہئے تو ایسے لوگ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر ہیں تو پھر اس جیسے کہنے والے کے پیچھے اقتداء فی الصلوۃ درست ہے یا نہیں؟

جواب

(۲) یہ لوگ اسلام سے واقف نہیں اسلئے ایسا کہتے ہیں انکو مسئلہ سمجھا دیا جائے، کہ اسلام نے ہر ہر مسئلہ ضروریہ کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے، اور اس کی اجازت نہیں دی کہ جیسا زمانہ ہو ویسا چلنا چاہئے، اس کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی حرکت سے باز نہ آئیں تو ایسے لوگوں کو امام نہ بنایا جائے، جبکہ ان سے بہتر امامت کے لائق دوسرا آدمی موجود ہو کیونکہ امامت کیلئے صالح دیندار متبع شریعت اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو