غیر مسلموں کے ساتھ تعاون مذہبی مصلحت سے
سوال
زید ایسی بستی میں رہتا ہے جس کی ہندو مسلم آبادی تقریباً برابر ہے، اس بستی میں خصوصاً ایام قربانی میں ہنگامہ وفساد کے اندیشہ کے باوجود گائیں ذبح کی جاتی ہیں، زید غیر مسلموں سے رابطہ قائم کرنے اور اُسے نبھانے میں محسوس کرتا ہے، کہ غیر مسلم کی طرف سے ذبیحہ گاؤ کے سلسلہ میں فساد کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہے گا، اور ان کی مذہبی پوجا میں کھانے پینے والے سامان، سواری اور پوجا جاری نہ رہنے کے اوقات میں مقام پوجا پر ان کی دل دہی کرنے (بنیت استوار تعلقات)
جواب
اعمال صالحہ پر بغیر نیت کے ثواب مرتب نہیں ہوتا ”لاثواب الا بالنية “ (الاشباه والنظائر) مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ جو کام بھی نیت صالحہ سے کیا جائے، وہ جائز بھی ہو، کیونکہ جن امور کی ممانعت ہے وہ نیت صالحہ سے جائز نہیں ہو جاتے، قرآن کریم میں ہے ”تعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان“۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔