الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مسلم کی دوکان ظاہر کرنے کے لئے تصویر لگانا

سوال

پریس میں اردو، ہندی، انگلش چھپائی کتابت طباعت سب ہی قسم کی ہوتی ہے برابر، برابر دوکان ہیں ایک دوکان میں قرآن دیوار پر چسپاں ہے، اور دوسری دوکان پر تصویر لگی ہوئی ہیں، اس وجہ سے لگائی گئی ہیں کہ ہندو غیر مسلم گاہک نہیں آتے، اور مسلم دوکان سمجھ کر واپس ہو جاتے ہیں، اس معنی کر اگر تصویر دیوار پر لگی رہے تو کیا کچھ حرج ہے شریعت کی رو سے اگر کوئی صورت جواز کی ہو تو تحریر کریں، اگر نہ ہو تب بھی تحریر فرمائیں؟

جواب

جاندار کی تصویر لکھنا اور لگانا منع ہے، اور اس نیت سے لگانا کہ دیکھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان کی دوکان ہے، بہت خطرناک ہے گویا کہ اپنی دوکان کو ایک غیر مسلم کی دوکان ظاہر کرنا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو