چڑیا والی گھڑی
سوال
زید گھڑی کی ایک فیکٹری قائم کرنا چاہتا ہے، جس میں آج کل کی نئی نئی ڈیزائن کی گھڑیاں چلتی ہیں، جو گھڑی زید بنوانا چاہتا ہے اس میں پلاسٹک کی چڑیا ہوگی، اور فٹنگ اس طرح ہوگی کہ جب گھنٹہ بجتا ہوگا تو اس وقت چڑیا اندر سے باہر آئیگی اور اس کے منہ سے گھنٹہ کی آواز نکلے گی، اور گھنٹہ بجنے کے بعد خود بخود ایک دروازہ کھلے گا، اور وہ اندر چلی جائے گی، اور دروازہ بند ہو جائے گا، تو کیا یہ تصویر والی گھڑی بنانا یا اس کی فیکٹری قائم کرنا از روئے شرع جائز ہے؟ آجکل جدید حالات میں اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب
جاندار کی تصویر بنانا تو بہر حال نا جائز ہے یہ حکم تو بنانے کا ہے لیکن چونکہ مقصود یہ چڑیا نہیں بلکہ وقت معلوم کرنا مقصود ہے، اس کے لئے گھڑی کی پرزے ہوں اور مشینیں سو وہ شرعاً درست ہیں، ان کی بیع بھی درست ہے، لیکن جس طرح دروازے پر کپڑے کا پردہ ڈالنا اصل مقصود ہو جو کہ شرعاً جائز ہے، مگر اس کپڑے میں تصویر بنی ہوئی ہو یا اس پر چھپی ہوئی ہو تو اس پردے کو استعمال کرنا قبیح و مذموم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔