الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سات زمینوں کا پتہ

سوال

قرآن کریم کی بیان کردہ سات زمین سات آسمان صحیح قول کے لحاظ سے سب الگ الگ ہیں اور ایک سے دوسرے کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک تو وہ زمین کہاں ہے اور ہم کو نظر آتی ہے یا نہیں۔ (۲) ان زمینوں کے باشندوں تک اگر شریعت محمد یہ پہونچ سکے تو ان پر اس کا ماننا واجب ہوگا یا نہیں۔ ان تینوں چیزوں کے بارے میں اشارہ قرآن پاک میں ہے یا نہیں ورنہ اصول کے لحاظ سے تحریر فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔ (۳) خلا میں نظر آنے والے ستارے وہ زمین قرار پا سکتے ہیں یا نہیں !

جواب

ابن کثیر، ابن حجر، عینی، ثعلبی وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی کتب میں سبع ارضین سے متعلق احادیث و آثار خاص تعداد میں مذکور ہیں۔ مگر راجح و منقح طور پر ان سے یہ متعین نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں ہیں اور ہم کو نظر آتی ہیں۔ یا نہیں۔ (۲) وحی کا ان سب زمینوں میں پہونچنا تو بعض آثار میں مروی ہے۔ جن کا انداز یہ ہے کہ احکام سب کے لئے ان زمینوں کے رہنماؤں کے ذریعہ پہونچتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو