الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باپ کو دھکا اور گالیاں دینا

سوال

زید مالدار آدمی ہے، اس کا باپ عمر ضعیف آدمی ہے، جو بہت متقی ہے، بیٹا باپ کی خدمت کر سکتا ہے لیکن کرتا نہیں، باپ کے پاس کچھ کاشت کی زمین ہے، بیٹا باپ سے زمین خریدتا ہے، باپ نے یہ سوچ کر کے کہ میرے دولڑکیاں ہیں، دونوں کو کچھ روپیہ دیدوں گا، اور اپنے گزارے کے لئے کچھ رکھ لونگا باپ نے بیٹے کو زمین بیچ کر دی کچھ روپیہ بیٹے نے کا غذات کراتے وقت دیدیا اور کہا کہ کچھ بعد میں دیتا ہوں، باپ نے بیٹے سے کہا یہ روپیہ تم ابھی لو ایک ماہ بعد پورا روپیہ دیدینا باپ ایک ماہ بعد روپیہ لینے بیٹے کے یہاں جاتا ہے، بیٹا باپ کو دھکا دے…

جواب

فریضہ حج ادا ہو گیا مگر بیٹے کی حرکت سخت گناہ اور ظلم ہے جس کی وجہ سے مستحق عذاب ہے، قرآن کریم میں ولا تقل لهما اف ولا تنهر هما وقل لهما قولاً كريماً واخفض لهما جناح الذل الآية، سورۂ بنی اسرائیل آیت ۲۳ اس کو لازم ہے کہ والد سے معافی مانگے ان کا حق ادا کرے ان کی خدمت کرے ان کو خوش کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو