الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک لڑکی کو دینا دوسری کو نہ دینا

سوال

(۱) ہمارے خسر صاحب کی دو لڑکیاں موجود ہیں، دونوں شادی شدہ ہیں، ہمارے خسر صاحب اور خوشدامن دونوں ان کے ساتھ رہتے ہیں، عبدالستار صاحب پوری جائیداد پر قابض ہیں، پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں، چھوٹی لڑکی میرے نکاح میں ہے، اخیر میں خسر صاحب کی رائے سے خوشدامن نے اپنے نام کی پانچ بیگھہ زمین اپنی بڑی لڑکی کے نام لکھ دیا ہے، اس طرح سے اپنی چھوٹی لڑکی کو حق سے محروم کر دیا، تقریباً ۸ ہزار روپیہ کا نقصان ہم سمجھتے ہیں، ایسی حالت میں شرعاً کیا حل ہے؟ (۲)

جواب

(۱) خسر صاحب اور خوشدامن صاحبہ نے جو کچھ اپنی ایک لڑکی کو دے دیا، اور دوسری لڑکی کو نہیں دیا، اور اس سے مقصود اس کو کسی وجہ سے نقصان پہنچانا ہے، تو وہ گنہگار ہیں، مگر اس پر دوسری لڑکی کو دعوی کرنے اور مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے حق وراثت انتقال مورث کے بعد ہوتا ہے، زندگی میں نہیں۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو