جیسا خود کھائے ویسا باپ کو کھلائے
سوال
سعید نے اپنے بیٹے عبدالصمد سے کہا تم اپنے اور میرے خوراک و پوشاک میں برابری کا معاملہ رکھو، یعنی جو تم کھاؤ پیو وہ مجھے بھی کھلاؤ پلاؤ، اگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ خود تو اچھا کھایا، پیا، پہنا، اوڑھا اور مجھے خراب چیز استعمال کرائیں، تو یہ سب تیرا کرنا حرام ہوگا، اب عبدالصمد نے اپنے باپ کی نصیحت پر عمل نہ کیا تو کیا اس کا مال بڑھانا کھانا پینا حرام ہوگا یا نہیں؟
جواب
بیٹے کو خود چاہئے تھا کہ خدمت دل و جان سے کرتا اور اس کے لئے ہر چیز اپنے سے بہتر تیار کرتا، حدیث پاک میں ہے انت ومالك لابيك یعنی تو اور تیرا مال تیرے باپ ہی کے لئے ہے خود اچھا کھانا پینا اور باپ کو گھٹیا چیز دینا حیا کے بھی خلاف ہے، قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی عبادت کا حکم فرمایا تو والدین کے ساتھ احسان کا حکم بھی فرمایا ” و قضی ربک ان لا تعبدوا الا اياه وبالوالدين احسانا“،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔