الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نافرمان اولاد کو عاق کرنا

سوال

جو اولا د ۱۴/۱۶ برس کی عمر کی از قسم ذکور ہو اور ہوشیار صاحب شعور ہو ذی علم اور تعلیم اردو انگریزی پاتے ہو وہ اپنے باپ سے باوجود یہ کہ اس نے ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی ہو اور نہ اس کے ساتھ اس نے کوئی بدسلوکی کی ہو، وہ اپنے ماں کے ورغلانے سے اس قدر متنفر ہیں کہ کبھی نام بھی نہ لیں، بلکہ نام سن کر لعنت کریں، کبھی پوچھ کر نہ دیکھیں کہ مر گیا یا زندہ ہے، اس کے سایہ سے ڈریں بس ایسی اولا د نالائق کیا باپ کی وارث ہو سکتی ہے، اور کیا ایسی نا خلف اولاد کو باپ عاق نہیں کر سکتا، اور اگر ایسی اولاد کو وہ عاق کر دے تو کیا…

جواب

یہ اولاد کی نالائقی یقیناً قابل گرفت اور جرم ہے مگر اس سے وہ وراثت سے محروم نہیں ہو سکتی، نہ باپ کو محروم کرنے کا حق ہے، اگر باپ نے کہہ بھی دیا بلکہ تحریر کر دیا کہ میں نے اپنی اولاد کو محروم کر دیا ہے، میرے ترکہ میں سے کوئی حصہ نہ دیا جائے، تب بھی بیکار ہے، اس کو حصہ شرعی ضرور ملے گا، اگر باپ نے اپنا تمام مال اپنی زندگی میں خود خرچ کر دیا، خواہ دوسرے عزیز قریب کو دے دیا یا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو