الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیٹے کو بیٹا نہ ماننے والے باپ کے ساتھ کیا سلوک کرے

سوال

زید اپنے گھر پیدا ہوا اس کے والد کی لاپرواہی سے اس کی والدہ اور اس کی حالت زیادہ نازک ہو گئی، تو اس کے ماموں اپنے گھر لے گئے اور اس کی والدہ کچھ دنوں کے بعد اللہ کو پیاری ہو گئیں، اسکے بعد اس کے والد نے کوئی خبر نہ لی اس کے ماموں نے لکھایا پڑھایا شادی کی لیکن اس کے والد نے ایک پیسہ بھی نہیں دیا، زید کے والد نے اپنی جائیداد بھتیجوں کے نام لکھ دی اور کہا میرا کوئی لڑکا نہیں ہے، زید نے اپنی کوشش سے کچھ حصہ پایا اب وہ اپنے والد کے ساتھ نہیں رہتا ہے، اور نہ اس کے ساتھ اس کے والد رہنا چاہتے ہیں، زید کیا کرے؟

جواب

زید کو اگر والد اپنے ساتھ رکھتا نہیں اور وہ سومیل کے فاصلہ پر رہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کبھی کبھی اپنی حیثیت کے موافق ان کی خدمت کرتا رہے والد کے اس کہنے سے کہ میرا کوئی لڑکا نہیں پریشان نہ ہو دعائیں کرتا رہے، کبھی کبھی موقع ملنے پر ملاقات بھی کر لیا کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو