والد کی غلط رائے قابل عمل نہیں
سوال
میری عمر اس وقت گیارہ سال ہے تین سال قبل میں چاند پور اپنے استاذ کے پاس آیا، میرے استاذ نے مجھ سے مندرجہ ذیل سوالات کئے، میرے پاس اس کا جواب سوائے نفی کے اور کچھ نہیں تھا، انہوں نے مجھ سے سوال کیا کلمہ یاد ہے یا نہیں؟ (۲) نماز آتی ہے یا نہیں؟ (۳) تم کسی مذہب پر ہو؟ مجھے یہ باتیں معلوم نہیں تھیں، کیونکہ میں صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ میں ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ہوں باقی اور کچھ خبر نہیں تھی، نہ یہ معلوم تھا کہ زکوۃ کیا ہے؟ صدقہ کیا ہے؟ حضور ﷺ کون ہیں؟
جواب
استاذ کا مشورہ بالکل شریعت کے مطابق ہے وہی قابل عمل ہے والد کی رائے غلط اور خلاف شرع ہے، اس پر عمل جائز نہیں آپ نہ کہیں بھاگیں نہ والد کی رائے پر خلاف شرع عمل کریں، نہ والد کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کریں، ان کی خدمت بھی اپنی وسعت کے موافق کیا کریں، اللہ پاک سے دعا بھی کرتے رہیں کہ وہ والد کو سیدھے راستے پر چلائے حق تعالیٰ آپکی مدد اور حفاظت فرمائے، آمین۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔