الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

والدہ کی بیجا حمایت پر ان سے قطع تعلق

سوال

ایک شخص جس کا یہ غالب گمان ہی نہیں بلکہ یقین ہے اس معاملہ میں کہ اس کو اس کے مرحوم والد کے ہر ترکہ میں برابر کا حصہ نہیں دیا گیا ہے، دلیل اس کے پاس موجود ہے، اور اس کا اس بات پر دعوی ہے کہ اس کو رہنے کی جگہ بھی اتنی کم ہے کہ مشکل سے گذر ہوتا ہے، یعنی بچوں کو لٹانے کی جگہ بھی ڈھنگ کی نہیں، والد کی میراث میں ایک مکان ہے جس کا جگہ کے اعتبار سے جھگڑا چل رہا ہے، ورثاء میں اس کے ساتھ چار وارث ہیں: (۱)

جواب

ان سب حالات کے باوجود قطع تعلق کرنا خود حق تلفی ہے، والدہ کا احترام اور ان کی خدمت اور ان کو خوش کرنا لازم ہے، دوسرے اہل قرابت کا بھی حق ہے، حدیث پاک میں آیا ہے کہ دنیاوی رنجش کی وجہ سے قطع تعلق کر دینے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی، اور اس کی مغفرت نہیں ہوتی اس لئے آپ والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو خوش کریں، اور دیگر اہل قرابت سے بھی سلام و کلام جاری رکھیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو