الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کے چپکے سے چلے جانے کے بعد پھر شوہر اس کو رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے

سوال

محمد سلیم کی شادی فریدہ بیگم کے ساتھ ہوئی دونوں قنوج کے رہنے والے ہیں محمد سلیم کے نطفہ سے اب تک سات بچے ہوئے محمدسلیم برابر اپنے باپ کے ساتھ بسلسلہ کاروبار کانپور جاتا رہا ہفتہ عشرہ کے لئے قنوج بھی حقوق زوجیت کے لئے آتا رہا پھر محمد سلیم کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور کچھ عرصہ کے بعد فریدہ کے دیور کا بھی انتقال ہو گیا اب فریدہ نے گھر کو خالی پا کر دیگر رشتہ داروں کے بہلانے سے گھر کا تمام سامان برتن وغیرہ لے کر بغیر شوہر کی اجازت و مشورہ کے کہیں بھاگ گئیں بہت پتہ لگایا مگر تین سال تک معلوم نہ ہو سکا نہ وہ اپنی ماں…

جواب

فریدہ بیگم بلا اجازت شوہر کے مکان سے چلی جانے کے وقت سے مستحق نفقہ نہیں رہی لہذا اس مدت کا نفقہ شوہر کے ذمہ واجب نہیں شوہر کا جو مال لے کر گئی ہے اس کا ضمان شوہر اس سے وصول کرنے کا حق دار ہے۔ شوہر ان حالات میں بھی رکھنا چاہے تو اس کو بیوی بنا کر رکھ سکتا ہے۔ اس پر طلاق نہیں ہوئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو