الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی سے خلاف فطرت کام کرنا

سوال

زید نے اپنی بیوی کو مارا پیٹا اور گھر سے نکال دیا۔ عرصہ چار سال کا ہو گیا، اپنی عورت سے خلاف فطرت کام کرتا ہے، نشہ آور چیزیں استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بیوی میری ملکیت ہے جس طرح چاہوں گا استعمال کروں گا۔ اب عرصہ چار سال سے بالکل خیر خبر نہیں لیتا۔ ایسی صورت میں ڈر ہے کہ لڑکی غلط راستہ پر نہ پڑ جائے۔ ایسی صورت میں اگر عقدِ ثانی کرنا چاہے تو شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب

ابھی تو عقدِ ثانی کی اجازت نہیں کیونکہ شوہر زندہ ہے اور اس نے طلاق نہیں دی ہے۔ اگر شوہر طلاق دیدے خواہ مہر کے عوض ہی دے اور پھر عدت تین ماہواری گزر جائے تب عقد ثانی کی اجازت ہوگی۔ تنبیہ: نشہ آور اشیاء کا استعمال ممنوع ہے۔ شوہر کا بیوی کے ساتھ خلاف فطرت کام کرنا اور یہ کہنا کہ بیوی میری ملکیت ہے جیسے چاہوں گا ویسے استعمال کروں گا غلط نظریہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو