الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باپ بیٹوں کے حقوق

سوال

(۱) زید کی دو شادیاں ہوئیں، پہلی شادی اس کے دادا نے اپنے صرفہ سے بحالت بلوغ کی جس کے چند سال گذرنے کے بعد اس کی بیوی کے مرنے پر زید کی دوسری شادی زید کے صرفہ سے اس طریقہ سے ہوئی کہ زید اپنی آمد اپنے والد کو بھیجتا رہا، بوقت شادی زید کے والد نے خدا کی قسم کھا کر اس کی خالہ سے کہا کہ ہمارے ذمہ اس شادی میں کوئی قرضہ نہیں ہے، زید کی دوسری شادی میں جتنا صرفہ ہوا وہ سب زید کی نگاہ میں رہا اور وہ سب زید کی موجودگی میں ہوا، پہلی شادی کا تخمینہ بھی زید کے خیال میں ہے، ایک مرتبہ زید کے والد نے لکھا کہ شادی کا قرضہ ہے، زید…

جواب

(۱) والد کے بہت حقوق ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بہت جگہ اپنی عبادت کے ساتھ والد پر احسان کی تاکید فرمائی ہے احادیث میں والد کے حقوق کی رعایت اور راضی رکھنے کی سخت تاکید آئی ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے والد کو راضی رکھنا چاہئے، جب تک کسی معصیت کا امر نہ ہو تو والد کا کہنا ماننا حتی الامکان ضروری ہے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو