الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کا شوہر کو اپنی والدہ کی ملاقات سے روکنا

سوال

عمر کی والدہ اپنے دوسرے خاوند کے لڑکے ولڑکیاں لے کر عمر کے ساتھ رہتی تھیں اور اس کی بیوی و بچوں کا حق تلف کرتی رہتی تھی۔ عمر ان کے احترام کی وجہ سے کچھ نہیں بولتا تھا لیکن جب بات حد سے آگے بڑھ گئی اور اس بیوی کو چھوڑنے تک کو کہا جبکہ انہیں کی وجہ سے دو بیویاں اور چھوٹ چکی تھیں۔ آپ کے یہاں تفصیل سے لکھ کر جب فتوی لیا تو یہ معلوم ہوا کہ ان کو اپنے موجودہ خاوند کے پاس رکھا جائے۔ لیکن اگر والدہ تنگدست رہتی ہیں تو ان کی تمام کمانے والی اولاد پر برابر برابر اپنی ماں کے خرچ کا حق عائد ہوتا ہے۔

جواب

بیوی کو سحر کا خطرہ ہے اس کی حفاظت کے لئے پانچوں نمازوں کے بعد چاروں قل اور الحمد اور آیة الکرسی تین تین دفعہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لیا کریں انشاء اللہ تعالیٰ سحر کے خطرہ سے حفاظت رہے گی۔ اور جب تحفہ لے کر کبھی کبھی والدہ کے پاس جائیں گے تو والدہ خوش ہوں گی، سحر نہیں کرائیں گی۔ بیوی کو وہم ہے اس کو سمجھانا چاہئے۔ خدا کرے وہ بھی خوش رہے اور طلاق طلب نہ کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو