ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ بیوی سے الگ رہنا
سوال
ایک شخص اپنی بیوی سے سات آٹھ ماہ جدا رہتا ہے یہ بیوی کی خاموش اجازت يا تقدير أو حكماً اجازت کے بعد ہوتا ہے۔ تو کیا از روئے شرع اس کی اجازت ہے؟ (۲) نیز اس جدائی کے بعد کتنے روز بیوی کے پاس رہنے سے حق ادا ہو گا؟ (۳) کوئی شخص کثیر مدت جدا ر ہنے کے بعد ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ بیوی کے پاس رہ کر پھر کسی دینی کام میں ڈیڑھ ماہ کے لئے باہر جانا چاہتا ہے۔ تو اس میں بیوی کی اجازت لینی ہوگی یا نہیں؟ اس صورت میں بیوی کی حق تلفی تو نہیں ہوتی؟
جواب
(۱) اگر قرائن قویہ سے اس کی رضا معلوم ہو جائے تو یہ بھی کافی ہے۔ (۲) صحت و مزاج کے اعتبار سے یہ حکم مختلف ہو سکتا ہے۔ (۳) گذشته غیبوبت جبکہ اذن ورضا سے رہی گو وہ صراحت نہ ہو تو ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ پاس رہ کر ماہ ڈیڑھ ماہ کی غیبوبت کے لئے اذن کی ضرورت نہیں جبکہ نفقہ کی تنگی نہ ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔