بیوی کو بے پردگی سے روکنا
سوال
زید اپنی بیوی کو اس بات پر تنبیہ کرتا ہے کہ وہ پردہ غیر محرم سے کرے اور چاہتا ہے کہ علم دین سیکھے مگر وہ ان دونوں باتوں سے انکار کرتی ہے۔ نیز زید کی حیثیت چٹنی، روٹی اور گاڑھا پہنانے کی ہے اور اس کی بیوی کہتی ہے کہ یہ خوراک ہم سے نہیں کھائی جاتی اور اپنے خاوند کی مرضی کے بغیر جہاں چاہتی ہے جاتی ہے یعنی اپنی خالہ وغیرہ کے یہاں جہاں پر غیر محرم آتے جاتے ہیں یعنی اس کے ماموں کا لڑکا یا اس کے خالو اور اس کے خالو کا بہنوئی وغیرہ جن سے وہ پردہ کرنے سے گریز کرتی ہے باوجود اس کے کہ چند مرتبہ اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ پردہ…
جواب
زوجہ کے ذمہ لازم ہے کہ امور مذکورہ میں زید کی اطاعت کرے اور صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزارے۔ علم دین بقدر ضرورت سیکھنا فرض ہے نامحرم سے پردہ بھی فرض ہے۔ اگر وہ نامحرم سے پردہ نہ کرے بلکہ اس کے سامنے چہرہ کھولے تو مرد کو حق ہے کہ مناسب سزادے اور بقدر ضرورت پیٹ بھی سکتا ہے اگر بلا اجازت و بلا رضا مندی شوہر کہیں جائے گی تو جب تک شوہر کے گھر واپس نہ آئے نفقہ کی مستحق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔