الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلا اجازت شوہر گھر سے باہر غائب رہنا

سوال

زید نیک اور خلیق مسلمان ہے۔ اس کی شادی ہوئے بیس سال ہوئے۔اس کے سات بچے ہیں۔ چند ماہ پہلے ایک فرض کی ادائیگی کے لئے وہ تین ماہ باہر رہا۔ بیوی کو نصیحت کی کہ گھر چھوڑ کر کہیں نہ جائے اور ان سب کا پورا انتظام کر کے گیا تھا۔ لیکن غیر موجودگی میں وہ ایک روز گھر سے اچانک اکیلی پوری رات غیر حاضر رہی اور دوسرے دن صبح گیارہ بجے واپس آئی۔ زید کے بھائی نے غیر حاضری کا سبب پوچھا تو بتلایا کہ دھوپ کے موسم میں لوگ دریا کو نہانے جاتے ہیں اور وہاں کمروں کا انتظام ہے۔ رات کو واپسی کی بس نہیں ملی اور مجبوراً وہاں رہی۔

جواب

عورت کے لئے جائز نہیں کہ بلا اجازت شوہر اس کی غیبوبت کی حالت میں گھر سے نکلے اور پھر رات بھر غائب رہے وہ شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے سخت گناہ کی مرتکب ہوئی۔ لیکن بلا اقرار وشہادت شرعیہ کے کسی پر زنا کی تہمت لگانا بھی جائز نہیں ہے۔ ثبوت زنا کے لئے شرط ہے کہ یا تو ملزم خود اقرار کرے یا چار عادل گواہ شہادت دیں اس کے بغیر زنا کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو