بغیر شوہر کی اجازت کے والدین کے پاس رہنا
سوال
اگر نکاح کے بعد شوہر کہتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھوں گا اور ملنے کیلئے اپنے والدین کے پاس جاسکتی ہے سال بھر میں دو تین ماہ کیلئے اور والدین کہتے ہیں کہ ہم بوڑھے ہیں اسلئے شوہر کے پاس سال بھر میں دو تین ماہ جاسکتی ہے اور والدین کی جائداد بھی ہے اور اس پر گذر بھی ہو سکتی ہے لیکن والدین کہتے ہیں کہ اگر لڑ کی چلی گئی تو ہم بھینس نہیں رکھ سکتے اسلئے کہ بھینس کیلیے چارہ وغیرہ لانا ہے اور دودھ دوہنا ہے اور والدین کہتے ہیں کہ ہم کو روٹی پکانا بھی مشکل ہے تو اس صورت میں والدین کے پاس رہے یا شوہر کے پاس اور عورت…
جواب
والدین کا یہ مطالبہ صحیح نہیں، اگر بغیر شوہر کی اجازت کے عورت والدین کے گھر اس طرح رہے گی تو نافرمان ہوگی اور اتنی مدت کا نفقہ بھی نہیں ملے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔