اندیشہ فتنہ کی صورت میں بیوی کو اس کے میکہ نہ بھیجنا
سوال
ایک رات مجھ سے میری بیوی نے کہا کہ میں تم سے ایک بات کہتی ہوں کسی سے کہو گے تو نہیں، جب اس کو یقین ہو گیا کہ میں کسی سے نہیں کہوں گا، تو بیوی نے کہا کہ میرے بھائی نے مجھ سے حرام کاری کی ہے۔ یہ بات حلفیہ کہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب اس کو اس کے باپ کے گھر بھیجوں یا نہیں؟ مجھ کو تو اس کے بھائی سے ڈر لگتا ہے۔
جواب
شوہر کو حق ہے کہ اپنی بیوی کو مستقل طور پر ہمیشہ کے لئے اپنے مکان پر رکھے، اس کی اجازت نہ دے کہ وہ والدین کے مکان پر جا کر رہے لیکن والدین سے ملنے کو منع نہ کرے۔ جب وہ آ کر ملنا چاہیں تو ان کو اجازت دیدے۔ مگر یہ بھی حق ہے کہ اس کے والدین سے کہدے کہ آپ اپنی لڑکی سے ملاقات کیجئے اور رات کو اپنے مکان پر تشریف لے جائیے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔