عورت کو میکہ جانے کا حق
سوال
زید نے اپنی دختر مسماۃ ہندہ کا نکاح باداء حلف شرع شریف بکر سے کیا کہ آمد و رفت ہندہ کو بخانہ والدین سے میں ہرگز نہ ادا کروں گا۔ اور ہندہ کو سپر دبکر کر دیا اور بکر ہندہ کو بمقام کویل علیگڑھ لے کر چلا گیا۔ جس کو عرصہ تین سال کا ہو گیا اب بکر یہ عہد کرتا ہے اور مسماۃ ہندہ زوجہ خود کو بخانہ علاء الدین آنے نہیں دیتا اور نہ والدین سے ملنے دیتا ہے اور قسم کی تکالیفات زدوکوب وغیرہ کی مسماۃ ہندہ کو پہنچارہا ہے دریافت طلب یہ امر ہے کہ مسماۃ ہندہ زوجه بکر کو بخانہ والدین آمد و رفت کا و نیز قیام سکونت کا کس قدر حق حاصل ہے۔
جواب
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مرد کو یہ حق ہرگز نہیں کہ اپنی بیوی کو اس کے والدین سے بالکل منع کر دے نہ والدین کو آنے دے نہ بیوی کو جانے دے اگر شوہر ایسا کرے گا تو گنہگار ہوگا اور عورت کو اپنے والدین سے ملنے کا یقیناً حق حاصل ہے بہتر تو یہ ہے کہ والدین خود جا کر اپنی لڑکی سے مل آیا کریں اگر یہ دشوار ہو تو پھر لڑکی والدین کے پاس آکر زیارت کر جایا کرے اگر قریب ہوا اور کوئی دقت نہ ہو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔