الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رشوت کا حکم

سوال

شہر بمبئی میں چاہے کیسا ہی مکان ہو یا دوکان ہو مگر بغیر پگڑی کے نہیں ملتا اور کوئی سرکاری کام چاہے کتنا ہی چھوٹا ہو مثلاً کسی چیز کا لائیسنس نکالنا ہو یا میونسپلٹی سے مکان بنانے کا پلان منظور کرانا ہو بغیر افسروں کے رشوت دیئے کام نہیں ہوتا۔ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ پگڑی لینا دینا رشوت دینا لینا حرام ہے اس وقت سے مجھے بہت فکر ہے کیونکہ مجھے ایک کارخانہ کا پلان منظور کرانا ہے۔

جواب

رشوت کا دینا لینا حرام ہے البتہ دفع ظلم اور اپنا حق وصول کرنے کیلئے بحالت مجبوری رشوت دینے کی گنجائش ہے۔ اس صورت میں فقط رشوت لینے والا گنہگار ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو