الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شیعہ عورت کا زیور چوری کیا، پھر وہ مرگئی کوئی وارث نہیں چھوڑا، اس کو کہاں صرف کیا جائے

سوال

ایک شیعہ مذہب عورت کا ایک شخص نے کچھ زیور چوری کر لیا، وہ عورت فوت ہوگئی، یہ زیور اس خیال سے رکھتا تھا کہ اس سے امام باڑہ بنوائے یا کسی مذہبی کام میں صرف کرے، مرحومہ نے کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا، اس کے مرنے کے بعد چور کے دل میں خوف پیدا ہوا، اب وہ اس زیور کی رقم کو کسی ایسی جگہ خرچ کرنا چاہتا ہے جو مالکہ کے لئے باعث اجر بنے از روئے شریعت رہنمائی فرمائیں، کہ یہ رقم کس مصرف میں لگائی جائے؟ مسجد یا مدرسہ یا طلباء کے مصارف وغیرہ میں؟

جواب

اگر اس عورت کا کوئی نزدیک دور کسی قسم کا وارث نہیں تو وہ روپیہ غرباء پر صدقہ کر دیا جائے، نادار طلبہ بھی مستحق ہیں، بیواؤں، یتیموں اپاہجوں کو بھی دیا جا سکتا ہے، مسجد، مدرسہ اور راستہ وغیرہ کی تعمیر یا کسی بھی تنخواہ میں صرف نہ کیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو