الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رشوت دینا

سوال

اس دور میں عام طور پر غذائی قلت اور بے روزگاری پھیلی ہوئی ہے لیکن مسلمانوں کے طبقے اس سے زیادہ دو چار ہیں۔ کسی آفس میں بھی بغیر رشوت کے کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔ چاہے وہ نوکری سے متعلق ہو یا دوسری وجہ سے ہو۔ اب اگر رشوت سے بچتے ہیں تو پھر دوسری صورت بے روزگاری سامنے ہے۔ اور اتنی پونجی بھی نہیں کہ کہیں تجارت کر سکیں۔ اور مزدوری کرنی اتنی کافی نہیں ہوتی کہ بچوں کی پرورش کر سکیں۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟

جواب

اپنا حق (تجارت یا ملازمت وغیرہ) وصول کرنے کے لئے اگر مجبوراً رشوت دی جائے تو امید ہے کہ رشوت دینے والا گناہ سے بچ جائے گا۔ رشوت لینے والے پر ہی وبال رہے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو