کسٹم پر قلی کو رشوت دینا
سوال
ایک شخص حج کرنے کے لئے جاتا ہے اور واپسی میں کچھ سامان لے کر آتا ہے جس پر کسٹم ڈیوٹی لگتی ہے وہ شخص اس سامان کو چھپا کر لاتا ہے، قلی کی مدد سے اور اس کو کچھ رقم دیتا ہے جو اس کی اجرت سے زیادہ ہے جس کو بقول قلی کے افسران تک میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کیا اس رقم کو جو اجرت سے زیادہ دی گئی ہے قلی کو رشوت کہیں گے یا نہیں؟ اگر رشوت ہے تو الراشي والمرتشى كلاهما فى النار، والی حدیث کی روشنی میں جواب سے نوازیں، کیا گورنمنٹ کی کسٹم ڈیوٹی کو جبریہ ٹیکس کہیں گے اور اس کو بچا سکتے ہیں؟
جواب
اس کے رشوت ہونے میں کیا تامل ہے رشوت کی وعید بھی برحق ہے۔ اپنا حق وصول کرنے کے لئے یا ظلم سے بچنے کیلئے رشوت دینے والے کیلئے یہ وعید نہیں یہ ٹیکس تو سراسر ظلم ہے۔ بلا ضرورت ایسا سامان لانا ہی کیا ضروری ہے جس سے بچنے کے لئے رشوت دینی پڑے۔ نہ دی تو سخت بے عزتی، سامان بچالیا تو چوری، یہ کوئی دانشمندی کی بات نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔