ڈاکٹر کو طوائف سے فیس لینا
سوال
جن کی کمائی نا جائز ہے، جیسے طوائف، اس سے خرید وفروخت کرنا یا ڈاکٹر کو طوائف سے فیس لینا کیسا ہے؟ دریں صورت وہ کسی سے قرض لے کر ادا کرے تو کیسا ہے اسی طرح اس کو دعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر وہ حرام کی کمائی کا روپیہ دے تو ڈاکٹر یا دوکاندار کو فیس یا قیمت لینا درست نہیں، ایسے روپیہ سے دعوت قبول کرنا بھی درست نہیں، ہاں وہ قرض لے کر حلال روپیہ دے، تو لینا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔