الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

درزی کو بچا ہوا کپڑا استعمال کرنا

سوال

درزی کو جو کپڑا سلنے کے لئے دیتے ہیں اس کی اجرت تو پہلے طے ہو جاتی ہے، اور ناپ کے مطابق گاہک سے کپڑا لیا جاتا ہے، سلنے کے بعد اگر بچا ہوا کپڑا گاہک کو واپس کیا جائے تو اس کی تین صورتیں ہیں : (۱) گاہک بچا ہوا کپڑا لیکر خوش ہوتا ہے اور دعائیں دیتا ہے، دوسرا گاہک بچا ہوا کپڑا لیکر گالیاں دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ میرے کپڑے کا ستیا ناس کردیا، میرا کپڑا چھوٹا کر دیا اگر کپڑا پورا لگاتا تو میرا کپڑا صحیح بنتا، تیسرا گاہک کہتا ہے کہ اگر مجھے پہلے سے بتلا دیتے تو میں اتنا کپڑا کم لاتا یہ کپڑا بہت مہنگا ہے، اسے کون بھگتے گا،…

جواب

درزی کو چاہئے کہ جب کپڑا ناپے تو جتنا خرچ ہوگا، ناپ کر اتنا ہی بتائے، نہ اتنا کم بتائے کہ سل کر چھوٹا رہ جائے، نہ اتنا زیادہ بتائے کہ باقی بچے اور واپسی کی نوبت آئے، تاہم اگر باقی بچے گا تو اس کو خود نہ رکھے، بلکہ واپس کر دے، اس پر اگر گاہک ناراض ہو کر سخت الفاظ کہے تو جواب نہ دے، خاموش رہے اور اس کو ذخیرہ آخرت تصور کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو