تعویذ گنڈے کے لئے نامحرم سے میل جول
سوال
اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے جو تعویذ گنڈے کرنے کو اپنا پیشہ بنا لے اور غیر مسلم کو بھی تعویذ قرآنی آیات سے لکھ کر دیوے، اور اُن سے اُجرت بھی لیوے۔ نیز نامحرم عورتوں سے بے پردگی سے ملے جلے حتی کہ نامحرم عورتوں کو مار پیٹ کرتا ہو اور کہتا ہے کہ مجھے شیخ مدنی نے تعویذ کرنے کی اجازت دی ہے یا انکے خلفاء کا نام لیتا ہے۔ کیا اس شخص کا یہ فعل شریعت کے خلاف نہیں؟
جواب
تعویذ میں قرآنی آیات یا احادیث کی دعائیں یا اُن کے اعداد لکھ کر شفا کے لئے دینا درست ہے۔ جس طرح نبض پر ہاتھ رکھ کر نا محرم کے مرض کی تشخیص کرنا درست ہے اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو علاجاً بال پکڑنا بھی درست ہے۔ تعویذات پر اجرت لینا بھی درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔