غیر مسلم سے آسیب کا علاج کرانا
سوال
ایک شخص نے آسیب زدہ کا غیر مسلم سے علاج کرایا بعدہ وہ اس کی تلافی کرنا چاہتا ہے۔ وہ استغفار کرنے سے عنداللہ مغفور ہو جائے گا یا اس کی دوسری صورت ہے؟
جواب
اگر غلطی سے علاج کرایا ہے تو توبہ واستغفار کرلے اگر وہ کلمات کفریہ و شرکیہ کے ذریعہ علاج نہیں کرتا بلکہ جائز طریقہ پر علاج کرتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں جیسا کہ غیر مسلم ڈاکٹر یا طبیب سے جسمانی علاج درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔