الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مشرکانہ منتر سے علاج

سوال

الاستفتاء: زید جو کہ بے علم ہے نماز بھی نہیں پڑھتا دھوبی کا پیشہ کرتا ہے۔ ایک منتر کے ذریعہ کچھ امراض کی مثلاً اندرونی پھوڑا و کینسر کی جھاڑ پھونک کرتا ہے جس سے مریضوں کو صحت ہو جاتی ہے۔ جس منتر سے وہ جھاڑتا ہے اس میں غیر اللہ سے اعانت لی جاتی ہے۔ خدا کا بالکل ذکر نہیں کرتا۔ البتہ ابتداء میں بسم اللہ وہ ضرور پڑھ لیتا ہے مثلاً یوں کہتا ہے کہ فلاں دیوی یا دیوتا کے نام سے یا ان کے حکم سے اچھا ہو جائے، جل جا، پھنک جا، کیا اس سے علاج کرانا عام حالات میں جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ایسے شخص سے بذریعہ جھاڑ پھونک علاج کرانا جائز نہیں، اس میں دیوی دیوتا کو شافی اور متصرف مانا گیا ہے اور اس جھاڑ نے والے کو اس دیوی دیوتا کا مقرب تسلیم کیا گیا ہے، ایسا عقیدہ بھی اسلام کے خلاف اور کفر ہے اور ایسے شخص سے جھاڑ پھونک کرانے میں اس عقیدہ کی تصدیق اور اس کا اعزاز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو