لکھے ہوئے پانی کی مضرت اور اس کا علاج
سوال
اگر پانی پر کوئی شخص (جو برتن وغیرہ میں رکھا ہو) لکھ جاوے اور اس کے پینے سے گلا دکھنے لگے تو اور پانی لیکر اس کو چاقو سے تین بار کاٹ کر پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
یہ ایک ٹوٹکا ہے شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں اگر اعتقاد ہو کہ چاقو سے کاٹ کر پانی پینے سے گلا ٹھیک ہو جائے گا تو چونکہ یہ نہ شرعاً کوئی علاج ہے نہ طباً، لکھے ہوئے پانی کو نہ شریعت نے مضر بتایا نہ طب نے لہذا اس سے احتراز چاہئے، اگر یہ اعتقاد نہ ہو تو یہ ایک فعل عبث ہے اور دوسروں کے حق میں مفسد عقیدہ ہے اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے پانی کے احترام…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔