غیر مسلم سے جھاڑ پھونک کرانا
سوال
مسلمان ہندو سے منتر کرا لیتے ہیں، مسلمانوں کے لئے اس طرح کرانا جائز ہے کہ نہیں؟
جواب
غیر مسلم سے ایک تو علاج کرانے کے لئے یہ صورت ہے کہ وہ فنِ معالجہ کا ماہر ہے جیسے ڈاکٹر ہے حکیم ہے وید ہے کہ اس میں محض اس کی مہارتِ فن سے فائدہ حاصل کرتا ہے، جیسا کہ کسی وکیل غیر مسلم سے مقدمہ کی پیروی کرائی جائے سواس میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔